بھٹکل:29/ دسمبر(ایس اؤنیوز) ہوناور کے پریش میستا کی موت کی مذمت میں ہوناور، کمٹہ ، سرسی اور کاروار میں ہوئے پرامن احتجاج کے دوران ہوئے ناخوشگوار واقعات کے لئے پولس ہی ذمہ دارہے، معصوموں کی گرفتاری بند کی جائے اور ان کے خلاف درج کئے گئے مقدمات کو رد کئے جانے کا مطالبہ لے کرآج جمعہ کو بھٹکل بی جےپی شاخ کی طرف سے تحصیلدار کی معرفت ریاستی گورنر کے نام میمورنڈم سونپاگیا۔
سرکٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہوئے بی جے پی کارکنان ، تحصیلدار دفتر تک احتجاجی ریلی کے ذریعے پہنچے ۔ لیڈران کے مطابق ضلع کے مختلف تعلقہ جات پر منعقد کئے گئے احتجاج کے دوران پولس کو صبر و تحمل سے کام لینا تھا، لیکن پولس نے بے وجہ لاٹھی چارج کیا، جس سے حالات سنگین ہوئے ۔ اس معاملے میں معصوموں ، طلبا اور مزدوروں کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف 307کے تحت کیس درج کرنا قابل مذمت ہے۔
لیڈران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ضلع کے حالات پرامن ہونے کے باوجود پولس گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو گرفتار کررہی ہے، ان کے مطابق رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے (جنہوں نے سوشیل میڈیا میں ہوناور کی ایک لڑکی کے تعلق سے اشتعال انگیز مسیج پوسٹ کیا تھا) کے خلاف سیاسی دشمنی کی وجہ سے کیس داخل کیاگیاہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طورپر اس کیس کو واپس لے۔
میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ سیاست کے لئے حکومت اور ضلع انتظامیہ کو استعمال کیا جارہاہے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں پریش میستا کا قتل ہواہے، خاندان کو مناسب معاوضہ اداکیاجائے، قتل کے دن ہتھیاروں کے ساتھ گھومنے والے 5میں سے 4کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے ، جس کی وجہ سبب بنے سی پی آئی کمار سوامی کو فوری طورپر معطل کیا جائے ۔ سرسی میں احتجاجیوں اور مندر پر پتھراؤ کئے ہوئے ملزموں کوگرفتارکیاجائے ، عوامی جائیداد کو نقصان پہنچانے والے پولس والوں پر بھی قانونی کارروائی کی جائے ۔
میمورنڈم میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھٹکل بلدیہ دکانوں کی تقسیم کاری کے دوران انہی لوگوں کو دکانات دئیے جائیں جو وہاں پہلے سے دکان چلا رہے تھے۔ رام چندرنائک ، جنہوں نے خودسوزی کی تھی ، اس تعلق سے میمورنڈم میں بتایا گیا ہے کہ اس کی موت کے لئے وجہ سبب بنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اسی طرح ہوناور کے ماگوڈ کی کاویا معاملہ کی دوبارہ جانچ کرنے کا بھی میمورنڈم میں مطالبہ کیاگیا ہے۔
احتجاج میں سابق وزیر شیوانند نائک، سابق رکن اسمبلی جے ڈی نائک، گوندنائک، بھٹکل بی جےپی صدر راجیش نائک، کرشنا نائک آسارکیری ، این ڈی کھاروی ، اور وسنت کھاروی نے احتجاجیوں سے خطاب کیا۔ سنیل بی نائک ، پرمیشور دیواڑیگا، گووردھن نائک، سبرائے دیواڑیگا، لکشمن نائک، موہن نائک سرپن کٹا، ہنومنت نائک، شیوانی شانتارام، دھنیا کمار جین، داس نائک تلگوڈ، رام چندرنائک، پرمود جوشی ، وینکٹیا بھئیرومنے ، ناگیش دیواڑیگاو غیرہ موجود تھے۔ احتجاجی ریلی کو دیکھتے ہوئے بھٹکل میں صبح سے ہی آر اے ایف اور پولس کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔